فرقہ وارانہ نفرت پر کارروائی کیوںنہیں؟
ملک میں جیسے جیسے انتخابات کا موسم قریب آتا جا رہا ہے فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ جاریہ سال کے اواخر تک ملک کی مختلف
ملک میں جیسے جیسے انتخابات کا موسم قریب آتا جا رہا ہے فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ جاریہ سال کے اواخر تک ملک کی مختلف
ہندوستانی سماج میں جرائم کا سلسلہ رک نہیں رہا ہے ۔ لوگ معمولی سی باتوں پر کسی کی جان لینا آسان سمجھ بیٹھے ہیں۔ قتل و غارت گری کے معاملات
جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے منتخب نمائندوں سے سوال پوچھنے کا حق ہے ۔ ہماری جمہوریت میں ہر شہری کو یہ حق دیا گیا ہے اور جو منتخب عوامی
میری نگاہ میں ہے وہ غم کی سیاہ راتجلتے رہے چراغ مگر روشنی نہ تھیملک میںجس کسی گوشے سے حکومت کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا اس کے خلاف آواز
لٹ جاتی ہیں تمام گلستاں کی رونقیںآتی ہے کون جانے دبے پاؤں کب خزاںدو ماہ تک معمولی سی کمی کے بعد ہندوستان بھر میںریٹیل افراط زر کی شرح میں ایک
دستکیں دیتی ہیں آ آکے جو دل پر میرےایسی بیتی ہوئی یادوں سے پریشان ہوں میںوزیر اعظم نریندر مودی برسر اقتدار جماعت بی جے پی کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں
اپنے بازو پہ سدا رکھ کے بھروسہ کاملتو ہی تقدیر کا تدبیر کا حاصل ہوجارقمی اور معاشی بحران کا شکارپاکستان کیلئے صورتحال ہرگذرتے دن کے ساتھ مشکل سے مشکل ترین
ملک میںیہ روایت چل پڑی ہے کہ ہر مسئلہ پر دوہرے معیارات اختیار کئے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر حکومت اور اس کے ہمنوا ادارے اور تنظیمیں اپنی سہولت
ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں پارلیمنٹ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے ۔ اسے ایک مقدس ادارہ بھی سمجھا جاتا ہے ۔ اسے جمہوریت کا مندر بھی قرار دیا جاتا ہے
ملک میں نفرت پر مبنی جرائم میں لگاتار اضافہ نے ہر ذی شعور اور صحیح العقل فرد کو تشویش کا شکار کردیا ہے ۔ سماج میں نفرتوں کو ہوا دیتے
کبھی یہ دل بڑی خوشیوں کا طوفان لے کے اٹھتا ہےکبھی یہ موت کا بھی آہ سامان لے کے اٹھتا ہےترکی اور شام ہلاکت خیز زلزلہ سے دہل کر رہ
تمہارے وعدہ کے بعد جیسے نہ صبح آئی نہ شام آئیکہ عمر گزری تمہارا وعدہ نہ کل ہی بدلا نہ آج بدلاتلنگانہ اسمبلی میں ریاست کا بجٹ برائے 2022-23 پیش
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ بالآخر قومی سیاسی سفر کا آغاز کرچکے ہیں اور انہوں نے تلنگانہ کے باہر اپنے پہلے سیاسی جلسہ کا ناندیڑ مہاراشٹرا میںانعقاد عمل
نشانہ مجھ کو بناکے اپناوہ میرا صبر آزما رہا تھاویسے تو سارے ملک میں انتخابات سے قبل سیاسی ماحول میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ ہر جماعت اپنے لئے نئی حکمت
گذشتہ ایک ہفتے سے اڈانی گروپ کے شئیرس کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ درج کی جا رہی ہے ۔ ہزاروں کروڑ روپئے کے نقصانات کا سلسلہ جاری ہے ۔ کہا
مرکز میں اقتدار حاصل کرنے سے قبل بی جے پی نے ملک میں سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تھا ۔ دوسری معیاد کیلئے اقتدار حاصل کرنے
معاشی زبوں حالی اور پریشانیاں آج کے ماحول میں مختلف ممالک کو پریشان کرنے لگی ہیں ۔ کئی ممالک ایسے ہیں جو معاشی دیوالیہ کے قریب پہونچتے جارہے ہیں ۔
دل کھنڈر سا ہوگیا ہے شورشِ حالات سےدیکھنا یہ گھر بھی اک دن راستہ ہوجائے گادنیا کی ترقی اور پیشرفت کیلئے معیشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ آج دنیا
نہ مشورہ دو ہمیں تم کسی سہارے کاجو پستہ قد ہیں وہی سیڑھیاں تلاش کریںہندوستان میں وقفہ وقفہ سے اس طرح کے نزاعی اور اختلافی مسائل کو ہوا دینے کی
اب تو جاتے ہیں ترے کوچہ سے میرپھر ملیں گے اگر خدا لایا کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا آج کشمیر میں تکمیل کو پہنچ رہی ہے۔ 7